بنگلورو،20؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر سدارامیا کی کار پر کوڈاگو میں انڈے پھینکنے، ان کی کار کے اندر ساورکر کی فوٹو ڈالنے اور کالے جھنڈے دکھاکر واپس جاؤ کے نعرے لگانے کی واردات پیش آنے کے بعد سدارمیا نےاپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ”انہوں نے گاندھی جی کو مار ڈالا۔ کیا وہ مجھے بخشیں گے؟ سدارامیا نے چکمگلور میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ”انہوں نے گاندھی کا قتل کیا۔ گوڈسے نے گاندھی کو گولی مار دی۔ اور وہ گوڈسے کی تصویر کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ پولس کی سیکورٹی کے باوجود میری کار پر انڈے پھینکتے ہیں تو آپ آگے کس بات کی توقع رکھتے ہیں ؟‘‘ سدارمیا نے اپنی حفاظت کے بارے میں تشویش کا بھی اظہار کیا۔
بتایا جارہا ہے کہ سدارامیا کی باتوں کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ انہوں نے مسٹر سدارامیا سے ملاقات کی ہے اور انہیں مناسب سیکورٹی اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے تحقیقات کے لیے سدارامیا سے دھمکی آمیز کال کی تفصیلات بھی طلب کیں ہیں۔
بومئی نے کہاکہ انڈے پھینکنے کی جو واردات سدارامیا کے ساتھ پیش آئی ہے، ’’ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہم نے اس بارے میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے بات کی ہے۔ پولیس اس کی تحقیقات کرے گی۔ ہم نے ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کارکنان سے کہا کہ وہ ایسا کوئی بیان نہ دے جس سے دوسروں کے ذہنوں میں نفرت پیدا ہوتی ہو۔‘‘
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بومئی نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) آلوک کمار سے بھی بات چیت کی ہے اور انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ حالیہ پیش رفت کے بعد سدارامیا کو اضافی سیکورٹی فراہم کریں۔